ابنا:ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے زیادہ امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے اور انہیں یہ بات بتائی جائے کہ ان کے حکمران کس طرح ان کے جذبات، احساسات اور ان کے خون پسینے کی کمائی کو اپنے اقتدار اور امارت کو طول دینے کیلئے ذاتی مقاصد کے تحت خرچ کر رہے ہیں۔ لٰہذا وہ بیدار ہو کر ایسے مطلب پرست حکمرانوں سے اپنے مقدر کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ان زرپرست حکمرانوں کو اپنی قسمت سے نہ کھیلنے دیں اور ایسے فیصلے ہوں، جس سے عوام اور انسانیت کی فلاح کا ہی پہلو نکلے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر اپنی ذات کے دائرے میں مقید ہوس پرست حکمرانوں کیلئے نہ تو اقتدار کا کوئی چور دروازہ کھلا رہے گا اور نہ رہے گا بانس، اور نہ بج سکے گی بانسری اور پھر وہ عرصہ دراز سے تشنہ تکمیل اہداف بھی ضرور پورے ہونگے، جن کا خواب ہمارے آباو اجداد نے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے دیکھے تھے اور یہی وہ طریقہ اور سلیقہ ہے جس سے عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
پوری دنیا کئی سالوں سے 24 سے 30 اکتوبر کو ہفتہ تخفیف اسلحہ مناتی ہے اور اس ہفتے کو منانے کا مقصد دنیا میں امن کی کوششوں کو فروغ دینا ہے اور اسلحے کی دھڑا دھڑ خریدارای کی حوصلہ شکنی اور اسلحے کے کم سے کم استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے۔ تاکہ دنیا کی سوچ کا رخ مثبت طرف موڑا جا سکے اور جنگ پر وسائل خرچ کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ وسائل لوگوں کی فلاح و بہبود، افلاس اور غربت مٹانے پر خرچ کئے جا سکیں۔ مقصدیت کے اعتبار سے اس ہفتہ کو منانے والی تجویز دل کو چھو لینے والی ہے، لیکن جب ہم اس پر عملدرآمد کی صورتحال کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ ایک ناممکن سی چیز ہی نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس وقت دنیا کے زیادہ تر بڑے ممالک کی اقتصادیات کا مرکز و محور اسلحہ بنانا اور بیچنا ہی ہے اور ترقی پذیر اور تیسری دنیا کہ ممالک ہی ان کے اسلحہ فروخت کی منڈیاں بنے ہو ئے ہیں، جہاں کی عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہی ہے، ان کے خون پسینے سے بھرے جانے والے خزانے کو کس بے دردی کے ساتھ اسلحوں کے انبار خریدنے پر صر ف کر دیا جاتا ہے اور جبکہ بیچارے عوام بنیادی ضروریات کیلئے ترس ترس کر اس دنیائے بے وفا کو خیر باد کہہ دینے پر مجبور ہیں، جبکہ سامراجی سوچ اور مقصدیت کو پورا کرنے کیلئے وہ حکمران ذریعہ بنتے آئے ہیں جو جمہوریت کے نام پر لوگوں کے مقدس ووٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے انہیں ایک مثالی فلاحی مملکت کا خواب دکھا کر قتدار میں آتے ہیں۔ لیکن صاحب اقتدار بنتے ہی انہیں چند دن کے اندر اس طرح بھول جاتے ہیں کہ جیسے وہ انہیں جانتے ہی نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی ان کے ساتھ کبھی واسطہ یا ناطہ رہا ہے اور ان سامراجی ممالک بالخصوص امریکہ کے ذہنی طور پر غلام حکمران بھوکی ننگی عوام کا درد کیسے محسوس کر سکتے ہیں، جن کا مطمع نظر اور ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اپنی جیبیں بھرو اور دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں اوپر آنے کیلئے اپنی دوڑ میں شامل رہو، یہی وجہ ہے کہ ایسے حکمران ہی ان اسلحہ خریداری کے سودوں پر جتے رہتے ہیں، تاکہ وہ کک بیک اور کمیشن وصول کر سکیں اور امیر امیر تر اور غریب ہر روز غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ ایسی سوچ کے حامل حکمرانوں سے کسی خیر کی توقع رکھنا بھی عبث ہے۔ اسلحہ پر تحقیق کرنیوالے بین الاقوامی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(sipri) کے مطابق پاکستان کی جانب سے سال 2005ء سے 2009ء تک اسلحہ کی خریداری پر 248 بھارت کی طرف سے 102 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق آ ئندہ 5 برسوں کے دوران دونوں ممالک کی اسلحہ سپلائی میں بڑے پیمانے پر اضافے کا امکان ہے، خصوصاً بھارت اسلحہ خریدنے والا پہلا بڑا ملک بن جائے گا، جبکہ چین نے ترجیحات بدلتے ہوئے اپنی توجہ اسلحہ خریدنے کی بجائے اسلحہ سازی پر مرکوز کر دی ہے۔ مذکورہ عرصے کے دوران بھارت نے اپنی اسلحہ خریداری 1.4 بلین ڈالرسے بڑھا کر 2.1 بلین ڈالر کر دی ہے۔ پاکستان نے 2005ء میں 1215 ملین ڈالر کی خریداری چین سے کی، جبکہ امریکہ سے 1164 ملین ڈالر فرانس سے 351 ملین ڈالر سویٹزرلینڈ سے 156 ملین ڈالر اور جرمنی سے107 ملین ڈالر خریداری کی۔ اسلحہ کی خریداری اس وقت عالمی سطح پر خصوصی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور عسکری لحاظ سے مضبوط ممالک اسلحہ کی خریداری کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ اسلحہ کی فروخت کے حوالے سے اب بھی سرفہرست ہے، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عالمی سطح پر اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے امریکہ 30 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ روس 23 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر جرمنی 11 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر، پر فرانس 8 فیصد کے ساتھ چوتھے اور 5 فیصد کے ساتھ برطانیہ پانچویں نمبر پر رہا۔ جبکہ اسلحہ خریداری کے حوالے سے 2005ء سے 2009ء تک 9 فیصد کے ساتھ چین سرفہرست جبکہ 7 فیصد کے ساتھ بھارت دوسرے نمبر پر اور 6 فیصد کے ساتھ کوریا تیسرے نمبر پر 3 فیصد کے ساتھ پاکستان دسویں نمبر پر رہا۔ امریکہ اپنا اسلحہ اس وقت 70ممالک کو فروخت کر رہا ہے اور 39 فیصد اسلحہ کی فروخت ایشیائی اور اوشنائی ممالک کو کی جاتی ہے جبکہ 36 فیصد مشرق وسطیٰ اور 18 فیصد یورپی ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب عالمی امن کے بڑے ٹھیکیدار اپنے اسلحے کے استعمال اور فروخت کیلئے نئے بہانے، نئے جواز اور نئے محاذ دھونڈنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اسلحہ کے کاروبار کو وسعت دینے کی منظم کوششیں بڑی شد و مد کے ساتھ جاری ہیں۔ عالمی امن کی بات تو کی جاتی، لیکن بدامنی کی اصل وجوہات کو ختم کرنے کی بجائے دیرینہ حل طلب مسائل، جن میں مسئلہ فلسطین، کشمیر، عراق افغانستان سمیت دیگر جغرافیائی ایشوز کو خواہ مخواہ طور پر مختلف حیلے بہانوں سے طوالت کی شعوری، مربوط اور منظم کوششیں جاری رکھی جاتی ہیں، تاکہ ان کا زیادہ سے زیادہ اسلحہ کی کھپت ہو اور وہ ان ممالک کے عوام کے خون پسینے سے حاصل ہونے والی کمائی کو وہاں کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر خرچ نہ ہونے دیں بلکہ وہ اسلحہ کی فروخت کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ منافع کما کر اپنے بزنس کو زیادہ سے زیادہ بڑھا اور چمکا سکیں اور اپنے ہوس پرست غلاموں کے ذریعے ان پر اقتدار جاری رکھ سکیں۔ ایسی صورتحال میں عالمی امن کا خواب دیکھنا خود اور دنیا کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں ہو گا اور اسی طرح تخفیف اسلحہ کی کوشش عالمی برادری کے ساتھ ایک مذاق کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ بالخصوص ایسے خطوں میں جہاں بھوک افلاس اور تنگدستی نے اپنا منحوس سایہ کر رکھا ہو، درد اور تنگدستی نے اپنا بسیرا کر رکھا ہو اور لوگ بھوک کے مارے چیختے چلاتے بچوں کے ساتھ محض اس لئے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ وہ اپنے بچوں کو ایک وقت کی روٹی دستیاب نہیں کر سکتے، صاحبان عقل و بصیرت کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنے وسائل بڑھانے اور اپنا اسلحہ فروخت کی راہ ہموار کرنے کیلئے غربت میں پسے ہوئے ممالک کو چھوٹے چھوٹے ایشوز کی بنیاد پر لڑا کر نئے نئے محاذ تلاش کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے اور وہ اپنے خطرناک اسلحہ کی فروخت کی ڈور میں جتے لوگوں کی عالمی امن سے کس حد تک دلچسپی ہو سکتی ہے اور اسلحے کے سوداگروں اور خریداروں کے منہ سے امن کی بات زیب نہیں دے سکتی۔ جب ایسے لوگ عالمی امن کے بڑے علمبرار ہونے کا بھی دعویٰ کریں تو پھر ایسے حالات میں عالمی امن کے خیال کی بھی فاتحہ خوانی کر لینی پڑے گی۔ یہ بات ان سیاستدانوں اور قوم کے غم خواری کے دعویداروں کیلئے باعث تعجب نہیں ہونی چاہئے کہ وہ اپنے علاقائی مسائل باہمی بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں جس کیلئے وہ ان ممالک پر اپنا تکیہ کئے بیٹھے ہیں جن کی معیشت کا دارومدار ہی اس ہر روز نت نیا سلحہ بنانا اور اسے فروخت کرنا ہے، تو وہ کیسے چاہیں گے کہ یہ مسائل حل ہوں کیونکہ اس طرح تو ان کا نہ اسلحہ بکے گا اور وہ اس سے حاصل ہونے والی دولت کے بغیر کس طرح دنیا پر حکمرانی کریں گے اور ان کی تو سامراجیت پر مبنی سیاست ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اب تیسری دنیا اور بالخصوص غربت کی ماری عوام کے حکمرانوں کو زمینی حقائق کا ادراک کر لینا چاہئے اور یہ بات سمجھ میں آ ہی جانی چاہئے کہ وہ یہ نہ دیکھیں کہ دنیا کیا چاہتی ہے بلکہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کی عوام کیا چاہتی ہے اور ان کے مسائل کیا ہین، تاکہ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ٹیکس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن ان کی قسمت بدلنے کیلئے خرچ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آ سکے۔ اگر حکمرانوں نے وقت کی آواز کو سن کر سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش نہ کی تو وہ وقت اب زیادہ دور نہیں کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے، پھر جلد یا بدیر انقلاب مقدر بن جائے گا اور ان کی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے زیادہ امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے اور انہیں یہ بات بتائی جائے کہ ان کے حکمران کس طرح ان کے جذبات، احساسات اور ان کے خون پسینے کی کمائی کو اپنے اقتدار اور امارت کو طول دینے کیلئے ذاتی مقاصد کے تحت خرچ کر رہے ہیں۔ لٰہذا وہ بیدار ہو کر ایسے مطلب پرست حکمرانوں سے اپنے مقدر کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ان زرپرست حکمرانوں کو اپنی قسمت سے نہ کھیلنے دیں اور ایسے فیصلے ہوں، جس سے عوام اور انسانیت کی فلاح کا ہی پہلو نکلے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر اپنی ذات کے دائرے میں مقید ہوس پرست حکمرانوں کیلئے نہ تو اقتدار کا کوئی چور دروازہ کھلا رہے گا اور نہ رہے گا بانس، اور نہ بج سکے گی بانسری اور پھر وہ عرصہ دراز سے تشنہ تکمیل اہداف بھی ضرور پورے ہونگے، جن کا خواب ہمارے آباو اجداد نے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے دیکھے تھے اور یہی وہ طریقہ اور سلیقہ ہے جس سے عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
..........
/169